یہ کتاب در اصل اُس سوال کا جواب ہے کہ جو کویت فنانس ہاؤس کمیٹی کی طرف سے دنیا کے بڑے بڑے مسلم سکالرز کو ارسال کیا تھا ۔ یہ کمیٹی وزارت ِ اَوقاف میں اِس لیے تشکیل دی گئی تھی تاکہ وہ اِسلامی بینکنگ کا ایسا نظام وضع کرے جو سود سے پاک ہو ۔
اِس کتاب میں مؤلف نے سود سے پاک بینکاری کے لیے تین نکات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک عمومی پالیسی پیش کی ہے ۔ اور وہ تین نکات یہ ہیں :
۱۔ مجوزہ بینکنگ شریعت ِ اِسلامیہ کے احکام کے مخالف نہ ہو ۔
۲ ۔ ایسی بینکنگ ہو ، جسے فعال کرنا اور باقی اداروں کی طرح اُس کی تشکیل سے مطلوبہ ہدف حاصل کرنا ممکن ہو ۔
۳۔ اُسے اِسلامی بینکنگ کا نام دیا جا سکے اور وہ اقتصادی زندگی میں مطلوبہ کردار ادا کر سکے ۔
یہ کتاب دو فصلوں پر مشتمل ہے ۔ پہلی فصل میں بتایا گیا ہے کہ بینک اور سرمایہ کاری کرنے والوں کے درمیان تعلقات کو کیسے منظم کیا جا سکتا ہے ؟ جب کہ دوسری فصل میں بینک کی بعض بنیادی ذمہ داریوں اور کاموں کی تقسیم کے بارے میں بحث کی گئی ہے ۔ اور آخر میں کچھ فقہی مباحث ملحق کی گئی ہیں ۔ یہ کتاب ۱۳۸۹ھ بمطابق 1969 م میں کویت سے شائع ہوئی ۔