اِقْتصادُنا، سید محمد باقر صدر کی اسلامی اقتصاد کے بارے میں لکھی ہوئی کتاب ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کا ہدف، اسلامی اقتصاد کے مبانی اور اس کا دوسرے اقتصادی بڑے مکاتب سے فرق کو بیان کرنا تھا۔ اس کتاب میں مارکسیزم اور سرمایہ داری نظام کو بیان کرنے کے بعد ان کو نقد کیا ہے اور پھر اسلامی اقتصادی نظام کو بیان کیا ہے۔ اسلامی اقتصاد میں شہید صدر کا سب سے اہم نظریہ، منطقۃ الفراغ، بھی اسی کتاب میں ذکر ہوا ہے۔ اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے اور اردو میں بھی اس کا ترجمہ موجود ہے۔

کتاب کا ہدف

شہید صدر نے کتاب کی پہلی ایڈیشن کے دیباچے میں اسے اسلامی اقتصادیات میں غور و فکر کی ایک ابتدائی کاوش قرار دیا ہے جس میں اسلامی اقتصادیات کو منظم طور پر بیان کیا ہے۔ آپ کے کہنے کے مطابق اس کتاب کو لکھنے کا ہدف یہ تھا کہ اسلامی اقتصادی کے بنیادی نظریات اور مبانی بیان کئے جائیں، اور دوسرے بڑے اقتصادی نظام کے ساتھ باہمی فرق کو بیان کریں اور اسلامی اقتصاد کو اسلام کے دوسرے اجزاء کے ساتھ بیان کریں۔

کتاب کا علمی مقام

اقتصادنا لکھے ہوئے آدھی صدی گزرنے کے بعد بھی یہ کتاب اسلامی اقتصادیات میں اہم کتاب سمجھی جاتی ہے اور دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں اسلامی اقتصادیات میں اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اسلامی دنیا میں یہ کتاب صرف شیعوں سے خاص نہیں بلکہ بلکہ سنی ممالک جیسے مصر کی یونیورسٹیوں میں بھی پڑھایی جاتی ہے۔

ڈاکٹر محمد مبارک لکھتے ہیں: کہ اقتصادنا، میں اسلامی اقتصادی نظریے کو اسلامی احکام میں تحقیق کرتے ہوئے فقہی کی اصالت کو محفوظ رکھتے ہوئے علم اقتصاد کی اصطلاحات کے ساتھ بیان کیا ہے۔

ڈھانچہ

اقتصادنا کے «کتاب» کے نام سے دو حصے ہیں:

پہلی کتاب کے تین باب ہیں:

  • پہلی فصل: مارکسیزم کی معرفی اور نقد؛
  • دوسری فصل: سرمایہ داری کی معرفی اور نقد
  • تیسری فصل: اسلامی اقتصاد کے اصلی اصول

دوسری کتاب میں مندرجہ ذیل ابواب ہیں:

  • پہلی فصل: اقتصادی مکتب تک رسائی کے مراحل؛
  • دوسری فصل: پیداوار سے پہلے تقسیم کا نظریہ؛
  • تیسری فصل: پیداوار کے بعد تقسیم کا نظریہ؛
  • چوتھی فصل: پیدار کا نظریہ؛
  • پانچویں فصل: اسلامی اقتصاد میں حکومت کی ذمہ داری؛
  • چھٹی فصل: پیوست‌ہا

اہم مطالب

سیدمحمدباقر صدر نے اقتصادنا میں اقتصادی مکتب اور علم اقتصاد کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ: علم اقتصاد معاشرے میں اقتصادی موارد کو کشف کرتا ہے اور ان کے عوامل اور آپس کے رابطے کو بیان کرتا ہے جبکہ اقتصادی مکتب لوگوں کی اقتصادی زندگی کو عادلانہ طریقے سے نظم دینے کو بیان کرتا ہے۔

ان کے عقیدے کے مطابق، اسلام میں اقتصادی مکتب کا ذکر ہوا ہے لیکن علم اقتصاد کا تذکرہ نہیں ہوا ہے۔ لہذا اسلامی اقتصاد اقتصادی زندگی کو نظم دینے کا عادلانہ طریقہ بیان کرتا ہے اور علمی اکتشافات کے پیچھے نہیں ہے؛ مثال کے طور پر، اسلام، حجاز میں ربا کے عناصر اور علتوں کے پیچھے نہیں تھا؛ بلکہ اسے ممنوع کیا اور مضاربہ کے نام پر ایک اور سیسٹم کی بنیاد رکھا۔

منطقۃ الفراغ

منطقۃ الفراغ کا نظریہ ان نظریات میں سے ایک اہم نظریہ ہے جو اقتصادنا میں بیان ہوا ہے اور شہید صدر کی ایجادات میں سے ہے۔ اس نظریے کے تحت، اسلام، اسلامی حکومت کو اس وقت اجازہ دیتا ہے کہ وہ زمانے کی ضرورت کے پیش نظر قانون بنائے۔ شہید صدر نے اس طرح سے قانون بنانے کو منطقۃ الفراغ نام دیا ہے اور پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے آنے والے بعض احکام بھی اسی میں سے ہیں؛ پیغمبر ہونے کے ناطے نہیں تاکہ وہ اللہ کا حکم ہو۔