یہ کتاب ان چند دروس کا مجموعہ ہے جو شہید صدر ؒ حوزہ علمیہ نجف اشرف میں تعطیلات کے دوران اپنے طلاب کو تفسیرقرآن کے عنوان سے دیتے تھے۔ ارباب تفسیر، قرآن کی تفسیر کے دو اسلوب اپناتے ہیں۔

ایک تفسیر تجزئی ہے جس میں مفسر قرآن کریم کی ابتدا سے آخر ایک ایک آیت کی تفسیر بیان کرتا ہے۔اس طریقہ تفسیر میں دقت یہ ہوتی ہے کہ کسی ایک موضوع پر کیونکہ آیات قرآنی یکے بعد دیگرے نہیں ہیں، اس لیے عام قاری کو کسی ایک موضوع پر قرآن کریم کاموقف حاصل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

تفسیر کا دوسرا طریقہ”تفسیر موضوعی“ہے جس میں کسی ایک منتخب موضوع پر آیات قرآنی کو جمع کیاجاتا ہے اور پھر تجزیہ وتحلیل اور بحث وتمحیص کے بعد اس منتخب موضوع پر قرآنی نکتہ نظر سامنے لایا جاتا ہے۔اس طرح ایک عام قاری بھی مختلف موضوعات میں قرآنی نظریہ سے واقف ہوجاتا ہے۔
تفسیر موضوعی کی ا ہمیت وافادیت واضح کرتے ہوئے شہیدصدر ؒ فرماتے ہیں:”یہ طریقہ در حقیقت قرآنی دائرہ کے اندر رہتے ہوئے کائنات اور حیات کے مختلف مسائل میں سے کسی ایک مسئلہ کو کشف کرنے کاعمل ہے۔“

شہید صدر نے تفسیر موضوعی کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر تفسیر کی اسی قسم کو اپنایا اور ایک امید واثق کے ساتھ اس میدان میں قدم رکھا۔آپ نے تفسیر موضوعی میں دو نہایت اہم موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار فرمایا، جس میں سے ایک موضوع کا تعلق اس مسئلہ سے ہے کہ قوموں کا عروج وزوال چند مخصوص شرائط سے تعلق رکھتا ہے اس لیے اگر کوئی قوم اپنے حالات میں تبدیلی لانا چاہتی ہے تو نص قرآنی کے تحت ان مخصوص شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔

دوسرے موضوع میں انسان کے اس روئے زمین پر کردار ومقام سے بحث کی ہے اور انسان کے خلیفۃ اللہ ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے خدا،فطرت اور اپنے ہم نوعوں سے رابطہ کا ذکر کیا ہے اور اس کے مقابلہ میں بنی نوع انسان پر مسلط ہونے والے استعمار،طاغوت اور استبداد کے اصل سرچشمہ کو ظاہر کیا ہے۔