"فدک فی التاریخ ” (اردو نام  "فدک فی التاریخ” ) ایک تاریخی اور تجزیاتی ابحاث پر مشتمل کتاب ہے ۔ اِس کتاب میں شہید باقر الصدرؒ نے مسئلۂ فدک پر بحث کی ہے ۔ جو ابوبکر نے رسول اللہ ص کی وفات کے بعد جناب سیدہ سلام اللہ علیہا سے غصب کر لیا تھا ۔ شہید نے اِس کتاب کو پانچ فصلوں میں مرتب کیا اور اُس وقت اُن کی عمر تیرہ چودہ سال کے درمیان تھی ۔

فصل (01) :

اس فصل میں شہید نے سیدہ الزہراء کی تحریک کو پیغمبر اکرم کی وفات سے لے کر ان کے انقلاب تک پیش کیا ہے۔ اورتمام واقعات کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ پہلے پیغمبر اکرم ص کی زندگی میں جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے حالات و واقعات کا ذکر کیا پھر اُن کا موازنہ آپؐ کی وفات کے بعد رونما ہونے والے واقعات کے ساتھ کیا ۔

فصل (02) :

اس فصل میں فدک کا جغرافیائی محل وقوع، اس کی سیاسی تاریخ، خلفاء کے درمیان اس کی منتقلی، اور اسے اہل بیت (ع) کو واپس کرنے سے انکار پر مشتمل ہے۔

فصل (03) :

اس فصل میں شہید نے وہ طریقہ کار پیش کیا ہے ۔ جس کی بنیاد پر تاریخی بحث ہونی چاہیے اور اور اِسلامی کے تاریخ کے پہلے درو اور اُس کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا چاہیے ۔ نیز اِس فصل میں آپ نے خلافت اور سیاسی حوالے مولاعلی ؑ کا موقف اور جنابِ سیدہ کےمزاحمتی کردار کو بھی بیان کیا ۔

فصل (04) :

اِس فصل میں شہید نے جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے بعض خطبات کا ذکر کیا اور اُن کے مطالب کو تحلیل و وضاحت کے ساتھ بیان کیا ۔

فصل (05) :

اس فصل میں شہید نے جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی میراث کے متعلق پہلے خلیفہ کا موقف بیان کیا ۔ اور فدک کے ہبہ ہونے کے موضوع پر اُس کے اور جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے درمیان ہونے والی بحث کا ذکر کیا ۔