اِس کتاب کو شہید باقر الٓصدر کی اہم تالیفات میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اِس کتاب میں شہید نے پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اسلام کس طرح زندگی کے دینی ، اجتماعی ، اقتصادی ، سیاسی اور دیگرپہلوؤں میں کامل طور پر رہبری وراہنمائی کر سکتا ہے ؟

اجمالی طور پر اس کتاب کاپہلاحصہ «اسلامی جمہوریہ ایران کادستوری ڈھانچہ اور مصادر قوت »کے نام سے ہے۔جوامام خمینی علیہ الرحمہ کی قیادت میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے فورا بعداسلامی حکومت کے آئین کی تدوین کے لیے تحریر کی گئی ہے۔
اس کتاب کی اصل اہمیت اس حساس حالات میں عصری تقاضوں اور مختلف سوالات کے پیش نظر جدید اور نئِے اسلامی نظریہ اور اور سوالات کافوری جواب ہے۔جو نوظہور اسلامی نظام کے لیے لازم تھا۔
یہ کتاب ایک مرجع تقلید کی جانب سے ہے۔جس میں اسلام کے سیاسی نظام کے بنیادوں کی تفسیر ووضاحت اورتجزیہ وتحلیل ہے۔اور حکومت اور عوام کے باہمی روابط کے بارے میں گفتگو ہے۔
اس وقت کے اجتماعی اہم مسائل میں اقتصاد سب سے اہم تھا۔اس لیے اس حوالے سے آپ نے اس موضوع کوزیادہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس کتاب کے فصل اول میں سورہ بقرہ آیت نمبر313سے استناد کرتے ہوئے اجتماعی روابط کے استحکام،اختلافات کے خاتمے،اور مفاسد سے مقابلہ کے لیے حکومت اسلامی کی تشکیل کومہم قرار دیا ہے۔اور یہ تاریخی تسلسل کے ساتھ امام خمینی اور ایرانی عوام تک پہنچاہے۔
کتاب کے دیگر حصے اس فصل اول کی تشریح ہے۔
فصل دوم اور سوم اسلامی اقتصاد کے بارے میں ہے۔
فصل چہارم میں خلاف انسان وشہادت انبیا کے حوالے سے انسان شناسی کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
بعد کے فصل نظریہ حکومت کااستخراج شامل ہے۔
اسلامی بینک اقتصادی دینی کے اہم مسائل میں سے ہے۔یعنی سود کی حرمت اور ایک بلاسود بینکاری کے سسٹم کاعمل قیام اس کتاب کے آخری حصے کوتشکیل دیتا ہے۔۔