شہیدہ بنت الہدیؒ اور شہیدسید محمد باقرالصدرؒکے بعض مماثل اوصاف

تحرير | صدیقہ بتول

مقدمہ
تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین نے ہمیشہ مردوں کے شانہ بشانہ اہم کردار ادا کیا ہے۔بہت سی ایسی مثالیں ہیں کہ مرد، میدان سے فرار کرجاتے ہیں تو بعض خواتین آگے بڑھتی ہیں۔
اسلامی تاریخ میں ایسی خواتین جابجا نظر آتی ہیں جنہوں نے دین کی حفاظت میں اپنے بھائیوں اور بیٹوں کا ساتھ دیااور ان کے مشن کو جاری رکھا، اپنے وقت کے امام کا دفاع کیا اور حق کی آواز کو بلند کیا۔جیسے جناب خدیجہ نے پیغمبراکرمؐ کاساتھ اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے وقت کے امام کے دفاع میں صدائے احتجاج بلند کی اور بوقتِ ضرورت مسجد میں جاکر خطبہ بھی دیا۔ اسی طرح جناب زینب سلام اللہ علیہا نے بھی اپنے وقت کے امام کی حفاظت کی، ان کے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور اپنے خطبات کے ذریعے ان کے اصلی چہرے کو بے نقاب کیا، یہاں تک آج، دین اسلام اور پیغام کربلا جناب زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات کے مرہون منت دکھائی دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ اسلامی تاریخ ایسی جانثار خواتین سے بھری ہوئی ہے، جنہوں نے اپنی شجاعت و بہادری کی مثالیں قائم کیں اور دین کی خاطر بہت سی قربانیاں دیں۔ ان میں سے ایک جلیل القدر خاتون، شہیدہ آمنہ بنت الہدی ہیں جنہوں نے دین اسلام کا دفاع کیا اور ہر مشکل موقع پر اپنے عظیم بھائی آیت اللہ سید محمد باقر الصدرؒ کا ساتھ دیا۔ وہ اپنے بھائی کی ہم فکر تھیں ، اسی لیے انھوں نے اپنی تحریک میں، خواہ وہ تربیتی ،ثقافتی ،سیاسی سماجی تصنیف وتالیف میں اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ایسا کردار ادا کیا کہ مسلمان خواتین کے لیے آئیڈیل اور نمونہ بن گئیں۔دشمنوں نے ان کو ڈرانا چاہا۔مگر جس نے حسینی درس گاہ سے سبق لیا ہو تو وہ عورت کوئی معمولی عورت نہیں بلکہ ایک شجاع اور بہادر خاتون ہوتی ہے جس کے ہر لفظ سےحق اور سچائی اجاگر ہوتی ہے۔
ہم اپنی اس مختصر تحریر میں شہیدہ بنت الہدی اور شہید باقر الصدر کی فکری اور عملی مماثلتوں کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے[1]۔کہ شہید ہ بنت الہدی اپنے فکروعمل میں شہیدصدر ؒکی پیروکار تھیں اور ان کو پیشوا اور مرجع مانتی تھیں۔اس کے علاوہ انہوں نے شہید صدرؒ سے ہی تعلیم وتربیت پائی اس لیے ان کی شاگرد بھی تھیں۔
اس مضمون میں دونوں کی زندگی اور مقاصد میں پائی جانے والی مماثلتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

1۔علمی مماثلت
شہید صدر ایک نابغہ اوروسیع ذہنیت کی مالک شخصیت تھے۔آپ کی تعلیم و تربیت ابتدائی طور پر اپنے خاندان ہی میں ہوئی اور اس کے خاندان کے بزرگوں نے اپنے اس نور نظر کو پروان چڑھایا ۔
شہید صدرؒ جب چار سال کے ہوئے تو باپ کا سایہ اٹھ گیا اور آپ کی یتیمی کا دور آگیا ۔ باپ کے انتقال کے بعد آپ کی تربیت والدہ اور آپ کے بڑے بھائی سید اسماعیل کے زیر سایہ ہوئی ۔
بچپن سے ہی آپ کی استعداد اور صلاحیت سب پر عیاں تھی۔ پانچ سال کی عمر میں مدرسہ جانا شروع کیا اور اپنے ہم عمر اور کلاسیوں کے ساتھ کلاس میں بیٹھتے اور علم حاصل کرتے تھے مگر آپ کی ذہنی صلاحیت کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کے درمیان میں ایک امتیازی مقام حاصل تھا آپ دس سال کی عمر میں لیکچر دیتے تھے اور اعلی مضامین اور علمی مباحث کو درجہ اجتہاد تک پہنچنے سے پہلےکسی استاد کے بغیر صرف مطالعہ سے سمجھ لیتے اور گہرائیوں تک پہنچ جاتے ۔آپ نے گیارہ سال کی عمر میں منطق کا گہرا مطالعہ کر کے ایک کتاب تصنیف کی جس میں منطق دانوں پر ایسے اعتراضات کئے کہ جن کا جواب کوئی نہیں دے سکا ۔
شہیدہ بنت الہدیٰ اپنے بھائی کی طرح ایک نا بغہ اور وسیع ذہنیت کی مالک خاتون تھیں۔ آپ نے لکھنا پڑھنا گھر میں اپنی ماں سے سیکھا ان کی ماں تعلیم کے معاملے میں ہمیشہ ان کی تعریف کیا کرتی تھیں۔ کہتی تھیں کہ جو بھی سکھاتی یا پڑھاتی ہوں ، وہ اسے نہیں بھولتی، ہمیشہ یاد رکھتی ہے ۔ انہوں نے اپنی باقی اعلی تعلیم جیسے ادبیات اصول فقہ حدیث اخلاق تفسیر وغیرہ اپنے بھائی سید اسماعیل اور سید محمد باقر الصدر سے حاصل کیے۔ یہاں تک کی درجے اجتہاد تک پہنچ گئی آپ ایک ایسی مجتہدہ تھیں جو کسی مدرسہ یا یونیورسٹی میں پڑھنے نہیں گئی تھی۔
شہید بنت الہدیٰ کے پاس بہترین ذہانت تھی اور وہ تمام سائنسی علوم میں اتر چکی تھیں اور ان کو قطعی فہم حاصل تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ شہید صدر خود اپنی بہن کی ذہانت پر حیران تھے تواس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ وہ کتاب مکاسب کے کچھ حصوں کو حل کرنے کے لئے اپنے بھائی کے پاس جاتی تھیں ۔کتابِ مکاسب ایک فقہی کتاب ہےکہ جس کو مرحوم شیخ انصاری نے لکھا ہے۔ دینی طلاب اس کتاب کو درس خارج سے پہلے پڑھتے ہیں۔ بعض علماء کے بقول اگر کوئی طالب علم مکاسب کی کتاب کو صحیح اور مکمل طور پر سمجھتا ہے تو وہ اجازہ اجتہاد کا مستحق ہے۔ اس بات سے اس کتاب کی اہمیت اور اس کے گہرے اور پیچیدہ مطالب کا بھی پتہ چلتا ہے اور شہیدہ بنت الہدای کی ذہانت و فطانت کا بھی ۔ بنت الہدی نے اپنےعلم اور قلم کی طاقت سے سے عراق کی خواتین میں ایک حرکت ایجاد کی اور خواتین میں اس علمی پرچم کو سر بلند کیا ۔بغداد اور کاظمین کے مدارس کی طالبات کی تربیت میں ان کا خاص کردار تھا ۔

2۔اخلاقی مماثلت
شہید صدرؒ ایک خاص ذہنیت بلکہ ایک بااخلاق ،پرہیزگار اور کرامت نفس کے مالک تھے یہاں تک کہ اپنے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے بعثی فوجیوں کے ساتھ بھی اچھے رویے سے پیش آتے تھے۔شیخ محمد رضا نعمانی نقل کرتے ہیں کہ ابھی چند ہی ماہ گزرے ہوں گے ایک دن دوپہر کے وقت میں شہید صدرؒ کی لائبریری میں سویاہوا تھا اچانک انہوں نے آواز دی ۔جب میں باہر گیا تو تو شہید صدرؒ کھڑے باہر دیکھ رہے تھے اور آہستہ آہستہ یہ ذکر پڑ رہے تھے: لا حول ولا قوۃ الا باللہ علی العظیم ۔ میں نے حیرت سے پوچھا آپ کیا کر کیا کہہ رہے ہیں آیت اللہ نے فرمایا: آگے ان سپاہیوں کو دیکھو جنہوں نے ہمارے گھر کا محاصرہ کیا ہوا ہے یہ بیچارے کس طرح گرمی کے عالم میں نیچے کھڑے ہیں ۔ لگتا ہے سب پیاسے ہیں۔ میرا دل ان کے لیے جل رہا ہے کاش ہم ان بیچاروں کو پینے کے لئے ٹھنڈا پانی دے دیتے ۔شیخ نعمانی نے کہا :استاد یہ لوگ مجرم اور خطاکار ہیں تو شہید صدر نے کہا :یہ لوگ صحیح تربیت نہ ہونے کی وجہ سے یہاں پر ہیں۔ اس کے بعد آپ نے اپنے ملازم سے کہہ کر ان سپاہیوں کو پانی پلایا ۔آپ کا اخلاق اور مہربانی دیکھ کر بعثی بہت سے سپاہی آپ کے گرویدہ ہوگئے ۔
شہیدہ بنت الہدیؒ کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ان کا اخلاق تھا اس خصوصیت نے انہیں ایک چمکتا ہوا سورج بنا دیا تھا۔ اس خصوصیت نے اس کے بلند اہداف کے لئے دلوں کے دروازے کھول دیے اور لوگوں کے دلوں پر ایک واضح اثرچھوڑا۔ آپ نے اپنے اچھے اخلاق اور تواضع و انکساری سے خود کو مکمل کر لیا تھا۔ وہ لوگوں کو بھی کمال کی طرف دعوت دیتی تھی ۔آپ امیر، غریب ،قریبوں اور غیروں میں کوئی فرق نہیں کرتی تھی اور ہر کسی کو ایک نظر سے دیکھتی تھی آپ اس فکر کے قائل تھے کہ اسلام”ان اکرمکم عند اللّٰہ اتقاکم” پر استوار ہے۔
خانم ام نورالہدی، شہیدہ بنت الہدی کے اخلاق کے بارے میں لکھتی ہیں: کہ ایک خواہر نے ایک بار شہیدہ بنت الہدی سے ملاقات کی۔وہ ان کے متعلق ایک واقعہ یوں بیان کرتی ہے جو شہیدہ بنت الہدیٰ کی درخشاں شخصیت کی نشاندہی کرتا ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ میں نے اپنی ابتدائی ملاقات میں ہی بنت الہدی سے کہا کہ آپ علویہ ہیں اور اپنی ماں کی طرف سے ہمارے اقرباء میں سے ہیں۔ بنت الہدی نے ہنستے ہوئے میری بات کا اس طرح جواب دیاکہ تمام مسلمان ہمارے اقرباء میں سے ہیں۔اس ملاقات میں بعض دیگر خواہران بھی میرے ساتھ تھیں، انہوں نے ہم سب کو ایک ہی نگاہ سے دیکھا ، تاکہ کوئی بھی دوسرے کی نسبت نزدیکی کااحساس نہ کرے۔ آپ ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ اخلاق سے و انکساری سےپیش آتی تھیں اور سب کا احترام کرتی تھیں ۔ ایک خواہر نقل کرتی ہے کہ میں ایک دفعہ اتفاق سے اپنے گھروالوں کے ساتھ بنت الہدیٰ سے ملاقات کے لیے گئی، جب ہم ان کے گھر سے باہر آئے تو میں اپنے جوتے کا تسمہ باندھ رہی تھی جس کی وجہ سے میں دوسروں سے پیچھے رہ گئی اور وہ میرے ساتھ کھڑی رہی تب میں 18 سال کی تھی اور اس وقت تک گھر کے اندر نہیں گئی جب تک میں گھر سے خارج نہ ہوئی اور مجھے خداحافظ کیا۔ وہ ایک مجتہدہ تھی پھر بھی وہ کبھی غرور و تکبر نہیں کرتی تھی۔ سب کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آتی تھیں آپ کی انہی خصوصیات نے آپ کو خدا اور بند گان خدا کے نزدیک محترم اور محبوب بنا دیا۔

3۔تصنیفی مماثلت
شہید باقر الصدر نے کم عمری ہی میں علمی و فکری جہاد میں حصہ لینا شروع کیا۔ اور اسلام کے فکری نظام اور تاریخ کے مختلف پیچیدہ موضوعات پر آپ نے تحریر و تقریر کے ذریعے نہایت عالمانہ مقالے اس وقت پیش کرنا شروع کر دئیے تھے جبکہ ابھی آپ جوانی میں بھی داخل نہ ہوئے تھے۔ عمر مبارک 47 برس سے زیادہ نہ تھی اور اس مختصر سی عمر میں مختصر سی عمر میں تالیف ،تصنیف اورتحقیق جیسے تمام فرائض انجام دیے۔ آیۃاللہ صدر نے سب سے پہلے علم اصول فقہ کی کتاب پیش کرنے کا شرف حاصل کیا اور تقریبا20-21 سال کی عمر میں ایک ایسی کتاب پیش کر دی جس سے دیکھ کر اس دور کے بزرگ علماء آپ کی صلاحیت کے قائل ہوگئے۔ علم اصول کے بعد آپ نے دیگر جدید علوم کی طرف توجہ دی اور25-26 سال کی عمر میں ,,فلسفتنا،، نام کی مفصل کتاب فلسفہ جدید میں پیش کیا پیش کردی۔ جس میں اشتراکیت اور مادیت تاریخ کے تار پود بکھیر دیئے اور فلسفہ اسلام کی حقانیت کو روز روشن کی طرح واضح کیا۔علماء اسلام نے آپ کو چودہ صدیوں میں چوتھا مسلمان فلسفی قرار دیا۔ فلسفہ کے بعد اقتصادیات میدان میں قدم رکھااور ہمارےاقتصادیات ,,اقتصادنا،، کے نام سے دو جلدوں میں مفصل کتاب تصنیف کر دی جس کی پہلی جلد میں اقتصادی نظریات کی تنقید کی اور دوسری جلدمیں اسلامی اقتصادیات کاخاکہ پیش کیا ۔اس نے کتاب نے عالم اقتصادیات میں ہلچل مچا دی اور ان لوگوں کی آنکھیں کھول دیں جو بلا سود بینک کے تصورہی کو ناممکن تصور کرتے ہیں۔
معاشیات کے بعد آپ نے علم منطق کی طرف توجہ دی اور کلاسیکل کا ایک باب,, استقراء،،جو ارسطو کے زمانے سے تشنہ تحقیق جلا آیا تھا اس کے جملے مسائل کےاز سر نو تدوین کی اور ایسے ایسے حقائق کی طرف توجہ دلائی جن کیطرف صدیوں سے کوئی ذہین متوجہ نہیں تھا یا ان کی تفصیلات مرتب کرنے سے قاصر تھا اس کے علاوہ آپ نے بہت کتابیں لکھی ہے جن کے نام درج ذیل ہیں ۔
1۔ غایتہ الفکر، 2۔ الانسان معاصر،3۔ حکومت اسلامی و المشکلتہ الاجتماعیۃ، 4۔ الصلوۃ،5۔ الصیام وغیرہ۔
شہیدہ بنت الہدیٰ صدر عراقی کی عالمہ،شاعر اور مؤلف خواتین میں سے ایک تھی۔ وہ ,,مجلۃ الاضواء،، میں عراقی اور عرب لڑکیوں کے لئے مضامین تحریر کیاکرتی تھی۔ اس مجلہ میں ان کی تحریر کاموضوع مسلمان خواتین کے لیے دینی امور کی پابندی اور مغربی آئیڈیل اور نعروں سے دوری ہوا کرتا تھا ۔لکھنا ان کااوزار تھا اسی لیے انہوں نے اپنے مخاطبین کے دائرے کومزید بڑھانے کے لیے تحریرکو ترجیح دی۔
وہ پہلی مسلم عورت تھی جس نے مسلمان لڑکیوں کےلئے ناول اور کہانیاں لکھیں۔اپنی کہانیوں کے ذریعے بنت الہدیٰ اپنے طرز فکر کا تعارف کراتی ہیں جو اسلامی افکار پر مشتمل ہے۔ اور ایک شخص کو اصلاح اور تربیت کا راستہ دکھاتی ہے۔اور عربی واسلامی ممالک کے بہت سےخواتین انکی کتابوں کےمطالعے کےذریعےاسلامی افکار تک رسائی حاصل کرسکتی تھیں۔ گھریلو مسائل،کارو شغل اسلامی،جاب کرنے والی خواتین کی دشواریاں،مذاق اڑانا،خواتین کی حیثیت کو زیر سوال لانا، خوبصورتی، میک اپ اور آرائش، جاب وغیرہ ان کی تحریروں افسانوں کے مرکز ہےانہوں نے اسی مقصد کے تحت شعر بھی کہے ان کے زیادہ تر اشعار دینی و مذہبی رنگ میں رنگے نظر آتےہیں۔ ان کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں:
الفضیلہ تنتصر۔ لیتنی کنت أعلم۔ امرأتان و رجلْ۔صراع مع واقع الحیاۃ۔لقاء فی المستشفی۔الخالہ الرضا ئعہ۔

4۔تربیتی مماثلت
شہید باقر الصدر نے درس و تدریس کے ذریعے اپنی بابرکت عمر میں بہت کم مدت میں جوان، پرہیزگار ،مجاہد اور بابصیرت شاگردوں کی تربیت کی جن میں سے ہر ایک اسلامی ثقافت ، علم ،جہاد کے میدان کے علمبردار بنے اور اپنے استاد کے بعد ان کی علمی، فکری ،اجتماعی اور سیاسی راہ پر گامزن ہوئے، یہ افراد مختلف اسلامی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک آج بھی عالم اسلام کی ممتاز فکری اصلاحی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ بعض اہم شاگرد سید محمد باقر حکیم, سید محمود ہاشمی شاہرودی, سید عبدالغنی اردبیلی، سید محمد باقر مہری، سید محمد علی، رضا نعمانی وغیرہ ہیں۔
شہید بنت الہدیٰ نے خواتین کی تعلیم و تربیت کےلئے بہت سے کارنامے انجام دیے جب ہم ان کے ان کارناموں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس بات کا راز معلوم ہوتا ہے کہ عراق کے ظالم اور جاھل اقتدار نےاس معظمہ کو اس کے بھائی سمیت کیوں قتل کیا ۔انکےچنداہم کار ناموں کو جو انہوں نے خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے انجام دیےہم یہاں ان کو ذکر کریں گے۔
1۔ نجف اشرف اور کاظمین شریفین میں لڑکیوں کے لیے دینی مدارسوں کا انتظام کیا۔
2۔ ان مدرسوں میں تعلیم کے لئےعملے اور نصاب کا انتظام۔
وہ خوداستانیوں سے ملتی تھیں۔ ان کی دینی معلومات میں اضافہ کرتی تھیں اور ان کے ذریعے ان شاگرد لڑکیوں کی تربیت کا انتظام کرتی تھیں۔ جو ان کے پاس امانت کے طور پر ہوتی تھیں۔
3۔اپنے بھائی باقر صدر کے گھر میں بدھ کے دن عورتوں کو کتاب ,,شرائع الاسلام،، کا درس دیتی تھیں جس میں تقریباً پچاس عورتیں آتی تھیں۔
4۔ بامقصد و مفید مذہبی کہانیاں لکھتی تھیں۔ یہ بھی ایک ایسا کام تھا کہ فانی دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی جس کا ثواب ملتا رہتا ہے ۔

5۔تدریسی مماثلت
شہید صدر نے بیس سال کی عمر میں ”کفایۃ الاصول،، کی تدریس کے ذریعے طلبہ کی تربیت کا آغاز کیا۔بعد میں تفسیرِ قرآن اور فلسفہ کی تدریس بھی کی۔ آپ کا گھر لوگوں کے لئے ایک پناہ گاہ شمار ہوتا تھا۔ جہاں آپ جمعہ کے دن صبح سے رات تک اور دوسرے ایام میں اذان ظہر سے قبل تک اپنے گھر کے دروازے لوگوں کے لیے کھول دیتا اورلوگ اپنے مسائل اور مشکلات کےحل کے لئے آپ کی خدمت میں پہنچ جاتے، تعلیم یافتہ نوجوان، دانشور ،مصنفین اپنے فکری اور علمی مسائل کو حل کرنے آپ کے گھر آتے اور آپ ایک مہربان باپ، بڑے بھائی، دلسوز اور شفیق استاد کی طرح ان کے بات سنتے، پھر علمی، منطقی اور واضح جواب سے ان کی اندرونی پیاس کو بجھادیتے، آپ تعلیم یافتہ نوجوانوں، دانشوروں اور طلاب کو تحریر، تحقیق،غورو فکر اور تالیف کی طرف توجہ دلاتے تھے۔ کیونکہ آپ کا عقیدہ تھا الٰہی تعلیمات کے مطابق ایک صالح معاشرہ کے قیام کے لئے جوانوں اور اہل علم کو حقائق کی نشر و اشاعت اور آگاہی کے ذریعے انجام دینا چاہیے۔

6۔انقلابی وجہادی مماثلت
شہید صدر اور بنت الہدی راہ اسلام کے دوعظیم جہادی شخصیات تھےجنہوں نے اس راہ میں انقلابی اقدامات کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔
مسلمان خواتین شہیدہ بنت الہدیٰ کے کردار سے، خواہ وہ سیاسی، اجتماعی،اخلاق، تربیتی ،تدرسی ہو معاشرتی زندگی کے لئے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔ شہیدہ بنت الہدیٰ اپنے گھر میں اسلامی سیمیناروں کا انعقاد کرواتیں جو کہ سکولوں اور یونیورسٹیوں کی طالبات اور مختلف تنظیموں میں کام کرنے والی خواتین، الغرض سب کے لیے کھلی دعوت ہوتا تھا جس میں وہ مختلف حقائق اور تصورات سے پردہ اٹھاتیں خاص کر مغربی دنیا کی ملمع کاری جو کہ عراق کی عورتوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی تھی۔ اس طرح وہ معاشرے میں نظریاتی تبدیلیاں لے آئیں جو کہ معاشرے میں اصلاحات کی بنیاد بنیں۔
وہ مجالس کا انعقاد بھی کرواتیں جس میں وہ مذہبی لیکچرز پیش کرتیں ہیں اور یہ لیکچرز زیادہ تر اپنے بھائی شہید صدرؒکے گھر منعقد کرواتیں۔جہاں پچاس سے زائد خواتین اکٹھی ہوتیں۔وہ ان خواتین کے سوالات کا جواب دیتیں جو کہ عموماً مختلف نظریات، اسلامی عقائد اور اسلامی فقہ سے متعلق ہوتے ۔