ولادت اور ابتدائی تعارف

مرجع شہید السید محمد باقر الٓصدر ( قد س سرہ ) کی ولادت 25 ذی قعدہ 1353 ھ بمطابق 1933ء میں کاظمین کے مقدسہ شہر میں ہوئی ۔ اُن کا سلسلہ نسب امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملتا ہے ۔ اُن کے والدِ بزرگوار السید حیدر الصدر ( قدس سرہ ) نابغۃ الدھر علماء میں سے تھے اور اُن کی والدہ علامہ عبد الحسین آل یاسین ( قدس سرہ ) کی بیٹی ہیں ۔

آپ نے حوزہ علمیہ نجف ِ اشرف میں السید ابوالقاسم الخوئی اور الشیخ محمد رضا آل یاسین جیسے بزرگ فقہاء سے کسب ِ فیض کیا ۔ آپ نہایت کم عمری میں ہی درجہ ٔ اجتہاد پر فائز ہوئے اور حوزہ علمیہ میں دینی علوم کی تدریس شروع کر دی ۔

شہید باقر الصدر نے مختلف موضوعات پر قلم اُٹھایا اور نہایت عملی اور گراں قدر تحریریں قوم کے حوالہ کیں ۔ جیسے اِسلامی اقتصاد ، فلسفۂ اِسلامیہ ، تفسیرِ قرآن ، فقہ اور اُصول ِ فقہ ۔

شہید صدر نے سیاسی میدان کو بھی خالی نہیں رہنے دیا۔ بلکہ حزب الدعوۃ الاسلامیہ کی بنیاد ڈال کر اِسلامی سیاست کی مثال پیش کی ۔ اور فتوی صادر کیا کہ حزب البعث العربی الاشتراکی کے ساتھ تعلقات رکھنا حرام ہے ۔ جیسا کہ سب سے پہلے آپ ہی نے اِس فاسد نظام کو ختم کرنے کی دعوت دی۔

تعلیمی زندگی

شہید صدر نے پانچ سال کی عمر میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنا شروع کی ۔ اوراس کے بعد 1943ء کو سات سال کی عمر میں مدرسہ منتدی النشر الابتدائیہ میں داخلہ لیا ۔ آپ نے وہاں تعلیم کے چھے مرحلوں میں صرف تین سالوں میں مکمل کیا اور حوزہ علمیہ میں دینی علوم حاصل کے لیے ابتدائی مراحل سے فراغت حاصل کر لی ۔ حوزہ میں بھی آپ نے مقدمات کو بہت مختٓصر دورانیے میں مکمل کیا ۔ 1365ء میں شہید صدر ( قدس سرہ ) اپنے بھائی السید اسماعیل کی رفاقت میں کاظمین سے نجف اَشرف تشریف لائے اور وہاں بزرگ علماءِ اعلام کے فقہ و اصول فقہ اور دوسرے دینی و حوزوی دروس میں شرکت کی ۔ جیسا کہ وہاں آپ نے فلسفہ اِسلامیہ کے ساتھ ساتھ فلسفہءِ مغرب بھی پڑھا ۔

آثار

شہید باقر الصدر نے بہت سے موضوعات پر کتابیں بھی تالیف کیں ۔ جیسے فلسفہ ، اقتصاد، اخلاقیات ، تفسیر اور تاریخ وغیرہ جیسے موضوعات پر علمی کتب قوم کے حوالے  کر کے اپنا منصبی فریضہ بوجہِ اَحسن انجام دیا ۔ آپ کو منطق الاستقراء کے بانیوں میں سے شمار کیا جاتا ہے ۔

جب شہید کی عمر سترہ سے اٹھارہ سال تھی تو روزانہ سولہ گھنٹے مطالعہ کرتے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ آپ سن ِ بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی درجہ ٔ اجتہاد پر فائز ہو گئے تھے ۔ اِس لیے اپ نے کسی مجتہد کی تقلید نہیں کی ۔

شہیدصدر کے اساتذہ

شہید باقر الصدر نے تحصیل ِ علم میں حسب ِ ذیل بزرگان سے استفادہ کیا :

السيد اسماعيل الصدر.

الشيخ محمد رضا آل يس.

السيد أبو القاسم الخوئي.

الشيخ مرتضى آل يس.

الشيخ صدرا البادكوبي.

الشيخ عباس الرميثي.

الشيخ محمد طاهر آل راضي.

السيد عبد الكريم علي خان.

السيد محمد باقر الشخص.

الشيخ عباس الشامي.

شہید کے شاگردان

شہید باقر الصدر نے بیس سال کی عمر میں درس پڑھانا شروع کر دیا تھا ۔ اور سب سے پہلے جس کتاب کی تدریس کی ، وہ کفایۃ تھی ۔ پچیس سال کی عمر میں اصول فقہ کے درس ِ خارج کا آغاز کیا ۔ اور اٹھائیس سال کی عمر میں فقہ کا درس  خارج پڑھانا شروع کر دیا ۔ اُس کے بعد فلسفہ اور تفسیر قرآن کا درس پڑھانا شروع کیا ۔ شہید باقر الٓصدر ( قدس سرہ ) نے تیس سال تک مختلف موضوعات کی تدریس کی اور بہت سے شاگرد تیار کیے ۔ جو آپ کے افکار کو آگے لے کر چلے اور آپ ہی کی شخصیت کو اپنا آئیڈیل بنایا ۔ آپ کے شاگردوں میں سب سے ممتاز شخصیات یہ تھیں :

السيد محمود الهاشمي.

السيد محمد محمد الصدر.

السيد كاظم الحائري.

السيد محمد باقر الحكيم.

الشيخ محسن الأرآكي.

السيد كمال الحيدري.

السيد عبد العزيز الحكيم.

السيد عمار أبو رغيف.

شہید کے علمی آثار

شہید السید باقر الصدر (طاب ثراہ ) نے متعدد عناوین پر عملی کتابیں تحریر کیں َ جن میں سے چند کتابوں کے نام یہ ہیں :

فدك في التاريخ.

غاية الفكر في علم الأصول.

فلسفتنا.

اقتصادنا.

الأسس المنطقية للإستقراء.

المعالم الجديدة للأصول.

بحث حول الإمام المهدي

بحث حول الولاية

الإسلام يقود الحياة.

المدرسة القرآنية.

دور الأئمة في الحياة الإسلامية.

نظام العبادات في الإسلام.

بحوث في شرح العروة الوثقى.

دروس في علم الأصول(الحلقات).

الفتاوى الواضحة(رسالة عملية).

البنك اللاربوي في الإسلام.

المدرسة الإسلامية.

موجز أحكام الحج.

حاشية على منهاج الصالحين للسيد الحكيم.

حاشية على صلاة الجمعة من كتاب شرائع الإسلام.

حاشية على مناسك الحج للسيد الخوئي.

بلغة الراغبين (حاشية على الرسالة العملية للشيخ مرتضى آل ياسين).

شہید کی مرجعیت

شہید باقر الصدر فقہ ، اصول فقہ ، فلسفہ اور منطق میں ایک استاذ مجتہد کے طور پر سامنے آئے ۔ مگر آپ نے آیۃ اللہ السید محسن الحکیم ( قدس سرہ ) کے بعد ہی اپنی مرجعیت کا اعلان کیا ۔ اِس سے قبل آپ نے حزب الدعوۃ الاسلامیۃ کی بنیاد رکھی اور اُس حزب کے افراد آپ کو مرجع سمجھ کر آپ کی تقلید کرتے تھے ۔ اِسی طرح داخل و خارجِ عراق سے بھی کچھ مومنین آپ کی فقہی آراء پر عمل کرتے ۔

انقلابِ اسلامی ایران کا دفاع

شہید باقر صدر کا یقین تھا کہ انقلابِ اسلامی ایران کا کامیاب ہونا نجاتِ اُمت کی امیددلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اکثرو بیشر انقلابِ اسلامی اور امام خمینی ( قدس سرہ ) دونوں کا دفاع کرتے تھے ۔ حتی کہ انقلاب کے آنے سے پہلے بھی آپ کھل کر اُس کی حمایت کرتے تھے ۔

1967ء میں جب امام خمینی ( قدس سرہ ) ترکی سے عراق تشریف لائے تو شہید صدرؒ نے اپنے شاگردوں کی ایک جماعت کے ساتھ اُن کا استقبال کیا ۔ جیسا کہ شہید صدر کا امام خمینی کے ساتھ برسوں پہلے کا بھی تعلق تھا کہ جو عرصہ اُنہوں نے نجفِ اشرف میں گزارا ۔ شہید کہا کرتے تھے کہ خمینی میں اِس طرح فنا جاؤ کہ جیسے وہ اِسلام میں فنا ہیں ۔ جوچیزشہید باقر الصدر کی انقلابِ اسلامی ایرن کی تائید پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے ۔ وہ اُن کی کتاب ’’الاسلام یقود الحیاۃ ‘‘ ہے ۔ اِس کتاب میں شہید نے اِسلامی جمہوریہ کا دستور پیش کیا ۔ اور اسلامی حکومت اور اقتصادِ اِسلامی کے مصادرکو بھی بیان کیا ۔

حزب البعث سے تعلقات رکھنے کی حرمت

جس حزب البعث نے حکومت ، اداروں ، مدارس اور یونیورسٹیوں اور بالخصوص تعلیم سے متعلق شعبہ جات کو اپنےکنٹرول میں کر لیا ۔ تو اِس فتنہ سے نبرد آزما ہونے کے شہید باقر الصدر میدان میں آئے ۔ آپ نے فتوی صادر کیا کہ حزب البعث کے ساتھ کسی قسم کا بھی تعلق رکھنا حرام ہے ۔ آپ کہا کرتے تھے : میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ جان لیں کہ حزب البعث کے ساتھ ہر قسم کا تعلق رکھنا حرام ہے ۔ اور اِسی طرح حکومت بھی جان لے کہ مرجعیت اُس کی جماعت اور عقائد کو ہرگز تسلیم نہیں کرتی ۔

شہادت

شہید صدر کو دس ماہ نظر بند رکھنے کے بعد اُن کی بہن کے ہمراہ انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا ۔ 19جمادی الاولی 1400 ھ بمطابق 5اپریل 1980 ء آپ کو گرفتار کیا گیااور گرفتاری کے تین دن بعد 9 اپریل 1980ء کو سخت شکنجوں اور سزاؤں کے بعد آپ کو اپنی بہن علویہ طاہریہ بنت الہدی کے ساتھ شہید کر دیا گیا ۔ رات کے نو یا دس بجے بعثی حکومت نے نجفِ اَشرف شہر کی بجلی کی تار کاٹ دی تھی اور رات کی تاریکی میں خون شہادت میں غلطان دونوں بہن کی بھائی تدفین مولا علی علیہ السلام کے حرم سے متصل قبرستان وادیٔ السلام میں ہوئی ۔ دونوں اجساد ِ شریفہ پر تشدد کے نشانات واضح تھے ۔

اُن کے بعد سید محمد باقر الصدر ( رضوان اللہ علیہ ) نے ظلم کے خلاف جہاد اور اپنے اجدادِ طاہرین ؑ کی طرح شہادت کے بلند مرتبے کو پایا ۔

شہید الصدر کی دعا

اے اللہ ! میں تجھ سے محمد و آل محمد کے حق کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے شہادت کی موت عطا فرما۔ اور اِس حال میں مجھے دنیا سے اُٹھا کہ تو مجھ سے راضی ہو ۔ اے للہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے دنیا حاصل کرنے کے لے یہ کام نہیں کیا ، میرا مقصد صرف تیری رضا اور تیرے دین کی خدمت ہے ۔ اے اللہ ! مجھے انبیاء کرامؑ ، آئمہ طاہرین ؑ اور صدیقین و شہداء سے ملحق فرما اور مجھے دنیا کی سختی سے نجات دے ۔ ( آمین )

 

شہید الصدر ( قدس سرہ )از زبان مرجع الشیخ محمد الیعقوبی ( مد ظلہ )

اپنی ساری زندگی اِسلام اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لیے گزاری ۔ اُن کا ہم و غم مشروع الہی اور دین ِ اِسلام کی تبلیغ و ترویج تھا ۔ انہوں نے زندگی کا کوئی لمحہ بھی اپنے لیے نہیں گزارا اور نہ اپنے کاموں کے لیے کوئی وقت خاص کیا ۔ اُن کا ہدف یہ تھا کہ اِسلام کی آواز دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچ جائے ۔ انہوں نےپوری دنیا کو دینِ اِسلام کے تابع بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانیاں صرف کیں ۔ اور اُن کے سامنے امت کی قیادت ، نظام زندگی کو چلانے ، تمام انسانی ضروریات و مسائل کا حل پیش کرنے کی مثالیں پیش کیں ۔ اِس سلسلہ میں آپ نے اپنی حیات ِ مبارکہ کے آخری حصے میں الاسلام یقود الحیاۃ کے نام سے ایک کتاب تالیف کی ۔ آپ تمام کام خالصتاً خدا کے لیے انجام دیتے تھے ۔ آپ کی نظر میں دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی ۔ آپ بلندی و بزرگی کے اوج کمال پہ تھے ۔ آپ کی مرجعیت عراق سے باہر بھی کافی حد تک پھیل چکی تھی ۔ اور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علم ، دانشور حضرات اور معاشرے کے ذمہ دار افراد آپ کے افکار سے بہت زیادہ متاثر تھے ۔

جب آپ نے نجف کو چھوڑا اور احداث و فتن کا مقابلہ کرنے کے میدان میں اترے تو دو سپر طاقتوں کی نظریں آپ پر لگ گئیں کہ جن کی پوری دنیا پر حکمرانی تھی ۔ بعد اِس کے کہ اقتصادنا اور فلسفتنا کی تالیف مفکرین ، فلاسفہ اور ماہرینِ اقتصادیات کی نظر میں ایک عظیم مقام حاصل کر چکے تھے ۔ لیکن آپ دنیائے دوں کے فریب میں نہ آئے ۔ جب دنیا آپ کے سامنے آئے آپ نے اُسے کوڑی برابر بھی توجہ نہ دی ۔ وہ دین کی راہ میں قربانی دینا اپنا فرض سمجھتے تھے ۔ چنانچہ اُنہوں نے بڑھ کر اپنی جان کی قربانی دی اور کوئی ایسا عذر اختیار نہیں کیا کہ جس کے سبب قربانی سے محروم ہو جائیں ۔ انہوں نے نہ صرف اپنی جان کی قربانی دی ، بلکہ اپنی ذات ، معنوی وجود اوراپنے متعلقہ ہر چیز کو خدا کے دین کی راہ میں قربان کر دیا ۔